Showing 61-80 of 99 items.

جب بھیجے ہوئے فرشتے آل لوط کے پاس پہنچے

تو انہوں (لوط علیہ السلام) نے کہا تم لوگ تو کچھ انجان سے معلوم ہو رہے ہو

انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہم تیرے پاس وه چیز ﻻئے ہیں جس میں یہ لوگ شک شبہ کر رہے تھے

ہم تو تیرے پاس (صریح) حق ﻻئے ہیں اور ہیں بھی بالکل سچے

اب تو اپنے خاندان سمیت اس رات کے کسی حصہ میں چل دے اور آپ ان کے پیچھے رہنا، اور (خبردار) تم میں سے کوئی (پیچھے) مڑکر بھی نہ دیکھے اور جہاں کا تمہیں حکم کیا جارہا ہے وہاں چلے جانا

اور ہم نے اس کی طرف اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی

اور شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے آئے

(لوط علیہ السلام نے) کہا یہ لوگ میرے مہمان ہیں تم مجھے رسوا نہ کرو

اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو

وه بولے کیا ہم نے تجھے دنیا بھر (کی ٹھیکیداری) سے منع نہیں کر رکھا؟

(لوط علیہ السلام نے) کہا اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری بچیاں موجود ہیں

تیری عمر کی قسم! وه تو اپنی بدمستی میں سرگرداں تھے

پس سورج نکلتے نکلتے انہیں ایک بڑے زور کی آواز نے پکڑ لیا

بالﺂخر ہم نے اس شہر کو اوپر تلے کر دیا اور ان لوگوں پر کنکر والے پتھر برسائے

بلاشبہ بصیرت والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں

یہ بستی ایسی راه پر ہے جو برابر چلتی رہتی (عام گذرگاه) ہے۔

اور اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی نشانی ہے

اَیکَہ بستی کے رہنے والے بھی بڑے ﻇالم تھے

جن سے (آخر) ہم نے انتقام لے ہی لیا۔ یہ دونوں شہر کھلے (عام) راستے پر ہیں

اور حِجر والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا